وقت بدلتا رہتا ہے
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGوقت بدلتا رہتا ہے انسان بدلتے رہتے ہیں
مخلوُق بدلتی رہتی ہے ادیان بدلتے رہتے ہیں
کبھی مارا مارا پھرتا ہے روزگار ملے نہ انساں کو
یہ ترسی ترسی دُنیا ہے یہاں پیار ملے نہ انساں کو
یہاں انساں بُہت ا کیلا ہے دلدار ملے نہ انساں کو
یہ دُنیا کیسی دُنیا ہے اسرار ملے نہ انساں کو
یہاں انساں ہی اس دُنیا کی داستان بدلتے رہتے ہیں
وقت بدلتا رہتا ہے انسان بدلتے رہتے ہیں
یہاں ہر پل پھُول بکھرتے ہیں یہاں کلیاں مّسلی جاتی ہیں
یہاں دلوں کے سود ے ہوتے ہیں آرزُوئیں کچُلی جاتی ہیں
یہاں اّرماں کب نکلتے ہیں یہاں عزتیں ا ُتاری جاتی ہیں
یہاں جسموُں کا بیوپار بھی ہے اور عصمتیں لوُٹی جاتی ہیں
روٹی کے ُٹکڑے کی خاطرایمان بدلتےرہتے ہیں
وقت بدلتا رہتا ہے انسان بدلتے رہتے ہیں
کبھی اپنے دیس میں پرد یسی انسان کو بننا پڑتا ہے
کبھی فرض کی خاطر بن باسی انسان کو بننا پڑتا ہے
کبھی مجبُوری میں مُجرم بھی انسان کو بننا پڑتا ہے
اپنوُں کے ہا تھوُں دُکھی بھی انسان کو بننا پڑتا ہے
مفادات کی خاطر یہاں پیمان بدلتے رہتے ہیں
وقت بدلتا رہتا ہے انسان بدلتے رہتے ہیں
انسانوں کے جنگل کو اب چھوڑ ہی دینا بہتر ہے
اس جنگل کے قانون کو اب توڑ ہی دینا بہتر ہے
اب نفرت کے دریاؤں کا رُخ موڑ ہی دینا بہتر ہے
انساں کےسوئے ضمیرکو جّھنجھوڑ ہی دینا بہتر ہے
اب راہ پہ لانا ہے ان کو نادان بدلتے رہتے ہیں
وقت بدلتا رہتا ہے انسان بدلتے رہتے ہیں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






