وقت جدائی
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, Kamaliaوقت جدائی
رات دیکھا میں نے خواب
تیری آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں
بکھرے ہوئے تھے تیرے بال
اور چادر بھی کالی تھی
گم سم، چپ چاپ، سہمے ہوئے
تو بے تحاشہ رو رہی تھی
گر رہے تھے تیرے آنسو
دامن میں تیرے ،بن کے موتی
میں نے جو پوچھا جو رونے کا سبب
تو ،تو نے
پھیر کے رخ انور دوسری جانب
پوچھ کے آنسو پلو سے
جو بہہ رہے تھے تیرے رخساروں پہ
دھیمے سے لہجے میں
یہ کہا
اب مجھ سے ملنے نہ آنا
مجھے اپنا نہ کہنا
سن کے تیری یہ بات
تعجب سے میں نے پوچھا
مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تیرا جواب آیا
اب وقت جدائی قریب آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






