وقت کا دل بھی ٹھہر جاتا ہے
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillجب تو مانند سحر جاتا ہے
وقت کا دل بھی ٹھہر جاتا ہے
تیرے پرتو کو چومنے کے لئے
چاند ندیا میں اتر جاتا ہے
زندگانی کا کھیل کیا کہئے
پھول کھلتا ہے بکھر جاتا ہے
آ غم زیست تجھے دیکھ ہی لیں
کہاں تک تیرا اثر جاتا ہے
تیرے چہرے کی تاب نہ لا کر
آئینہ خود سے مکر جاتا ہے
نہ ہو جب خیال میں ہم آہنگی
دوست بھی دل سی اتر جاتا ہے
عقل رہتی ہے گریزاں جن سے
عشق وہ کام بھی کر جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







