وقت کہانی
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaوقت کی بے شمار گلیاں ہیں
کچھ ہیں تاریک، اور کچھ روشن
وقت اک یاد ہے، کہانی ہے
وقت آنے پہ جو سُنانی ہے
سُکھ کی ڈھیری لگا بھی دیتا ہے
دُکھ کا انبار یہ نگل جائے
وقت آئے، ملے، نکل جائے
وقت پھسلے کبھی سنبھل جائے
اس سے امید سب ہی رکھتے ہیں
وقت اچھا کبھی تو آئے گا
نیند سُکھ کی ملے گی جب اس کو
چین کی بانسُری بجائے گا
وقت یہ کچھ چھپا بھی لیتا ہے
اور کچھ آشکار کرتا ہے
کچھ کو غفلت میں لوٹتا ہے مگر
کچھ کو یہ ہوشیار کرتا ہے
اُٹھ کھڑا ہو یہ ساتھ قسمت کے
ساتھ قسمت کے وقت بھی سوئے
کچھ بھی ہرگز وہ پا نہیں سکتا
ہاتھ میں آیا وقت جو کھوئے
وقت جانے کہاں سے آتا ہے
اور نہ جانے کدھر کو جاتا ہے
ساتھ اس کے جو بہہ نہیں سکتے
کس کنارے اُنہیں لگاتا
بیتنا پل کبھی تو مشکل ہو
اور کبھی زیست جائے لمحوں میں
وقت کا کھیل میں نہیں سمجھا
کوئی سمجھائے بھی تو لفظوں میں
وقت ہے سنگ دل یہ دکھلائے
وقت پڑنے پہ سامنے لائے
سب کے کرموں کے بیج کا پودا
جو بھی بوئے وہ کاٹتا جائے
اس کہانی کا کون ہے راوی
وقت کی ابتدا نہیں معلوم
اور انجام وقت کا کیا ہے
وقت کی انتہا نہیں معلوم
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






