وقت کی پکار
Poet: یاسر قاضی By: یاسرقاضی, کراچیایک طرف تری وفا،ایک طرف ساری جفا
رہے گئی کیا خاک بس،پیار کی دنیا سدا
لٹ گیا چین و سکون ،غارت گیا سارا فسوں
اب تو خلقت کے بخت میں،بس گئی یارو جفا
پیار کا قصہ زبانوں پرہے سب کے یوں رواں
جیسے ہوتا تھا کبھی پیار بھی رائج یہاں
پیار کا یوں ترجمہ اس دور میں ھم نے کیا
بہت مشکل کام ہے ھم سے کیوں کر یہ ہوا
عجب سرور تھا پیار کا،وقت کی ہے یہ صدا
قیس و فرہاد کا ثانی تو لا کر تو دیکھا
قصہ ہے یہ مختصر پر بات میں ہے ضرور اثر
کر نہ ستم اس جذبے پر پیار کی یاسر قدر تو کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






