وقف کر دیں گے
Poet: UA By: UA, Lahoreچاندنی رات وقف کر دیں گے
برکھا برسات وقف کر دیں گے
میرے سرکار حکم تو کیجئے
ساری حیات وقف کر دیں گے
اپنی آنکھوں نے جو سپنے دیکھے
انکی سوغات وقف کر دیں گے
دل میں اب تک چھپا کے رکھی ہے
اک اک بات وقف کر دیں گے
مہرباں ہم کو ہم نشیں کر لو
اپنے دن رات وقف کر دیں گے
جو بھی پروردگار نے بخشیں
وہ کرامات وقف کردیں گے
ہاتھ اٹھائیں گے جب دعا کے لئے
ہر مناجات وقف کر دیں گے
جب بھی چاہو تم آزما دیکھو
تم پہ یہ ذات وقف کر دیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







