وہ آنکھیں
Poet: امین علی By: امین علی, Kunriبیتاب نہیں میں ہاں، مگر وہ آنکھیں
تیرا یہ پری وش ہے گُماں میں کہ
ارے! دیکھے گی ادھر کو بھی، وہ آنکھیں
کی گفتگو مجھ سے تھی، حجابوں میں ابھی
ہاں،مگر نقش ہے ذہن میں میرے، وہ آنکھیں
اور پھر، یہ حجابی گلابی جو بھی، لحجہ جناب کا
بھول تو سبھی گیا، مگر ہائے وہ آنکھیں
لکھنے کو ہوں ایک غزل خاتون پر
مگر ہٹتی نہیں منظر سے،وہ آنکھیں
کلاس میں تیرا وہ ذکر کسی بات کا
سنا ہی نہیں کچھ، دیکھتا رہا میں وہ آنکھیں
حجابی کئیں ہیں مگر ، وہ آنکھیں
بیتاب نہیں میں ہاں، مگر وہ آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






