وہ اتنا ہی قریب ہو گیا جتنا کبھی دور تھا
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAوہ اتنا ہی قریب ہو گیا جتنا کبھی دور تھا
بچھڑنا تھا اتفاق ............ ملنا ضرور تھا
جس کے بنا میری زندگی میں اندھیر تھا
وہ شخص میرے ہاتھ کی اِک سنہری لکیر تھا
بستی کے سارے لوگ حامی و ہمنوا تھے
گھر بس رہا تھا ....... جو زیر تعمیر تھا
بیاہ کے لے گیا کسی شہزادی کی طرح
جو مجھ کو چاہتا تھا وہ لڑکا امیر تھا
ہم اب سےپہلےستاروں میں بس رہےتھےکہیں
اُتارے گئے زمیں پہ تو ملنا ناگزیر تھا
رعنا! دل ہار کے بھی یہ بازی مات نہیں
جو جیت کر گیا ہے میری وفا کا اسیر تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






