وہ الفت، محبت، وفا چاہیے
Poet: UA By: UA, Lahoreدرد لا دوا کو دوا چاہیے
مجھے عشق کی انتہا چاہیے
اے دلبر خوئے دل لگی چھوڑ دے
جو دل کو لگے وہ ادا چاہیے
جو خود کو خودی کے مقابل کرے
وہ جذبہ وہ ہی التجا چاہیے
دل میں نہاں جو نظر میں عیاں ہے
وہ چاہت وہ ہی مدعا چاہیے
صبر و سقر کے زمانے گئے
کہ اب امتحاں کا صلہ چاہیے
نگاہ اٹھتے ہی جھولی بھرنے لگے
مجھے وہ مکمل دعا چاہیے
عظمیٰ جو دلوں سے مٹی جاتی ہے
وہ الفت، محبت، وفا چاہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






