وہ الفتوں کا زمانہ وہ ماہ و سال کہاں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ الفتوں کا زمانہ وہ ماہ و سال کہاں
اے زیست تیرے سفر میں نیا سوال کہاں
میں کہہ نہ پائی تجھے اپنے دل کی بات کبھی
کہ پہلے جیسا یہ اس زندگی کا حال کہاں
پکارتی ہیں مجھے تلخیاں زمانے کی
میں پیچھے دیکھوں مری ہمت و مجال کہاں
کیے تھے وقت کے سلطاں نے ہم پہ جتنے ستم
وہ ان کے جیسی زمانے میں اب مثال کہاں
ترے سلوک نے گستاخ کر دیا وشمہ
وگرنہ میری طبیعت میں اشتعال کہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






