وہ اپنے بھی ہوتے ہیں انجان بھی ہوتے ہیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Ulfat, rawalpindiوہ اپنے بھی ہوتے ہیں انجان بھی ہوتے ہیں
آنکھوں کی چمک دل کی جان بھی ہوتے ہیں
ابھی دیکھ کے ان کو ہم دل بہلاتے ہیں
الفت کے مراحل کچھ آسان بھی ہوتے ہیں
یہ بتاؤ کیسے ہم انہیں بات کہیں دل کی
تھوڑا ڈر بھی لگتا ہے پریشان بھی ہوتے ہیں
آداب کی زنجیریں مجھے روک کے رکھتی ہیں
چھونے کو تو پاس اپنے آسمان بھی ہوتے ہیں
ابھی پہلی منزل ہے دیکھو کیا کرتے ہیں
جب قدم اٹھاتے ہیں حیران بھی ہوتے ہیں
یہ بتاؤ الفت سے وہ کیوں پیش آئے
قربت سے جو ملتے ہیں مہمان بھی ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







