وہ اک ساعت جو تیرے ساتھ میں نے گزاری ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ اک ساعت جو تیرے ساتھ میں نے گزاری ہے
وہ اک گھڑی مجھے ساری عمر سے پیاری ہے
تمہاری یاد میں گزرا میرا ہر ایک لمحہ
میرے ہر پہر ہر ایک پل پہ بھاری ہے
تمہیں برا نہ لگے تو میں ایک بات کہوں
مجھے لگتا ہے میری زندگی تمہاری ہے
یہ کیا کہ وصل کی سحر طلوع نہ ہو پائی
یہ کیا کہ ہجر کی شب آج تلک طاری ہے
مگر عظمٰی مجھے اس کا کوئی ملال نہیں
کہ میں نے زندگی تنہائی میں گزاری ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







