وہ اکثر یاد آتا ہے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

وہ اکثر یاد آتا ہے ،بہت ہی یاد آتا ہے
کبھی جھونکا ہوا کا بن کے اکثر یاد ٓتا ہے
یہی جھونکا مجھے تنہاییوں میں گدا گداتا ہے
کبھی خوشبو بنے اور نکہتِ باد بہاری کی طرح
ساری فضاوٓں کو وہ مہکاتے ہوئے
مجھ کو مچلنے کا بہانا دے کے جاتا ہے
میں اس کی یاد جب سوچتی ہوں،ایسے لگتا ہے
کہ جیسے ،وہ بہت نزدیک ہے میرے
بہت ہی پاس ہے میرے
کہ جیسے ،چاند بن کر مسکراتا ہے
کبھی جب رات کے پچھلے پہر
میرے مقدر کے اندھیروں کو
عطا کرتا ہے ایسی چاندنی،میرا نسیبہ جاگ جاتا ہے
ایسی کہ،رہ رہ کر وہ مجھ کو یاد آتا ہے
وہ اکثر یاد ااتا ہے، بہت ہی یاد آتا ہے

Rate it:
Views: 360
17 Feb, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL