وہ ایک شخص
Poet: Farah Ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgوہ ایک شخص
تنہا تنہا سا
اپنی سوچوں میں مگن
نہ جانے کیوں
الجھا الجھا سا لگا
اپنی ہی سوچوں سے پریشاں
خود سے ہی ناراض روٹھا روٹھا سا
جانے کیوں مگر اپنا اپنا سا لگا مجھے
اجنبی چہرا تھا مگر
لہجہ بھی مانوس نہ تھا مگر
کچھ تو تھا
پل بھر کے لئے مجھے
رک کر اسے دیکھنے پر مجبور کرگیا
دل میں کسی گداز جذبے نے کروٹ نہ لی
کوئی میٹھی سی کسک محسوس نہیں ہوئی
پھر بھی بے اختیار نظر اس پر ٹک سی گئی
کمبخت ہٹنے کو تیار نہ تھی
پل بھر کو نظریں ملیں
اور اداسیت من میں اتر گئی
میں نے اپنی راہ لی
اس نے بھی نگاہیں پھیرلیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






