وہ بات اب کہہ بھی دو جاناں مجھے جس کی ضرورت ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillوہ بات اب کہہ بھی دو جاناں مجھے جسکی ضرورت ہے
وگرنہ ریت پہ لکھ دو “ مجھے تم سے محبت ہے “
میری آنکھوں کی جنبش سے جو لرزیں روپ کے ساغر
تو پھر دھیرے سے کہہ دینا “ یہ دیوانے کی وحشت ہے“
ابھی تو میں نے پلکوں کو جھکایا تھا تیرے در پر
شہر میں شور مچ اٹھا “ بغاوت ہے بغاوت ہے
تیری زلفوں تلے ہی بندگی کے بھید کھلتے ہیں
تیری مٹھی میں ہی شاید میرے خوابوں کی جنت ہے
جنہیں میں نے گرایا پھول کی بے رنگ ٹہنی پر
ذرا معلوم تو کرنا جو ان اشکوں کی قیمت ہے
کہاں لفظوں میں اتنی تاب کہ تم کو بیاں کر دوں
عشق کی انتہا اقبال کہہ اٹھا تھا “ حیرت ہے “
مدران خلا اب ڈھونڈتے ہیں اپنے کروں کو
تمہاری راہگزر بھی چاند تاروں کی شرارت ہے
نظر کو زندگی بخشو یا سانسوں کو فنا کر دو
سبھی سر آنکھوں پہ جاناں تمہیں سب کی اجازت ہے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






