وہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanوہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
کہ بڑھ رہے ہیں جدائی کے اب گھنے سائے
کیا تھا میں نے تو اظہار اپنی چاہت کا
اشارہ تم سے نہ کوئی ملا محبت کا
رہے ہو آج تلک تم تو مجھ سے شرمائے
وہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
تمھارے دل میں ہے کیا آج تک نہیں جانا
کبھی سنایا نہیں تم نے اپنا افسانہ
تم اجنبی ہی رہے اور قریب نہ آئے
وہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
اگر ہے پیار تو پھر آج یہ بتا ڈالو
کہیں یہ وقت نہ ہاتھوں سے تم گنوا ڈالو
ملے گا کچھ نہ تمھیں بعد میں جو پچھتائے
وہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
میں لوٹ جاؤں گا کل شام ہونے سے پہلے
کسی کے ساتھ ترا نام ہونے سے پہلے
بیاہ کر نہ تمھیں کل وہ ساتھ لے جائے
وہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
وہ بات کہہ دو جسے آج تک نہ کہہ پائے
کہ بڑھ رہے ہیں جدائی کے اب گھنے سائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






