وہ بھولی سی لڑکی
Poet: جہانزیب کنجاہی دمشقی By: جہانزیب اسلم کنجاہی دمشقی , بغداد عراقوہ بھولی بھالی سی لڑکی
اسے کیا پتہ تھا؟
عشق کیا بلا ہے؟
کسی کے خواب
آنکھوں میں سجا کر
وہ خوشی سے مچلتی
تتلیوں کی طرح اڑتی
آسمانوں کی سیر کرتی
جانے اس کے من میں کون تھا؟
وہ اکیلی اس سے باتیں کرتی
جیسے کسی کی محبت میں
کوئی پاگل ہو جائے
اس نے تو
یہی سن رکھا تھاکے
عشق وہ جل ہے
جہاں سب کی پیاس بجھتی ہے
وہ گھر ہے جہاں صرف
سکون ہے
وہ زندگی ہے
جہاں صرف زندگی ہے
مگر وہ بھولی سی لڑکی
تھوڑی عقل کی کچی تھی
جیسے چھوٹی سی بچی ہو
اسے کیا پتہ تھا
عشق کیا بلا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






