وہ بھی ہے بیقرار ، میں بھی ھوں بیقرار
Poet: سید نذیر کاظمی By: Syed Nazeer Kazmi, Al Ainبس خامشی میں کٹ گئیں گھڑیاں وصال کی
دونوں کو ہی رھا فقط اپنی انا سے پیار
اس کو نہ آئ نیند تو میں بھی نہ سو سکا
یکساں ناراضگی کاتھا اظہار بے شمار
بس ایک ہی قدم پہ وہ منتظر رھا
میں بھی بس اک قدم پہ رھا محوءانتظار
رسمیں وہ توڑ دے تو بدل دوں میں ہر رواج
نہ اس کا حوصلہ ہے نہ میرا اختیار
رخ پھیر تو لیا ہے مگر چشمءنم کے ساتھ
وہ بھی ہے بیقرار ، میں بھی ھوں بیقرار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






