وہ تری یاد تھی
Poet: Chaudhry Tahir Ubaid Taj By: Chaudhry Tahir Ubaid Taj, Islamabadمیرے اعصاب میں اک جو فریاد تھی، وہ تری یاد تھی
اور وہم و گماں میں جو آباد تھی ، وہ تری یاد تھی
مجھ پہ طاری رہا اس کا احساس بادِ صبا کی طرح
ایسا لگتا ہے جیسے چمن زاد تھی ، وہ تری یاد تھی
اب کے یوں بھی ہوا کہ سفر نے مجھے راستہ نہ دیا
فاصلوں سے، حدوں سے جو آزاد تھی ، وہ تری یاد تھی
میرے احباب نے بھی کبھی نہ کیا وہ مرا ذکر تھا
تیرے عشاق کے لب پہ فریاد تھی ، وہ تری یاد تھی
مرحلہ کوئی تو آئے تجدید کا پھر تیری دید کا
شام محبوس تھی، سوچ برباد تھی ، وہ تری یاد تھی
کچھ بھی کرنے کو گر ٹھان لیں تو ہمیں کچھ بھی پرواہ نہیں
میرے فکر و عمل کو جو صیاد تھی ، وہ تری یاد تھی
اپنے بارے کبھی سوچتے تاج ہم بھی پہ مجبور تھے
جس نے مجنوں کیا ایک افتاد تھی ، وہ تری یاد تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






