وہ تو اول نمبر ہے
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birmingham بھلےلوگ بچھڑجاتےہیں چند مہینوں میں
پیارہوا تو جانا کےوفا ہوتی ہےحسینوں میں
عام سانپ سےبچنا تو آسان لگتا ہے
ان سے کیسےبچیں جو چھپےہیں آستینوںمیں
میرے انتخاب کا کیا پوچھتی ہو جاناں
وہ ایک بےمثال نگینہ ہےنگینوں میں
وہ پیارومحبت کا پیغام کسی کو کیا دیں گے
جو نفرت کےناگ پالتے ہیں اپنےسینوں میں
ساری دنیا میں میرےیار کا نہیں کوئی ثانی
وہ تو اول نمبر ہے سب نازنینوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






