وہ تیری پہلی محبت
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadمیرے بن تیرے جینے کا
تصور بھی نہیں تھا ناں؟
تو پھر ممکن ہوا کیسے؟
سجالی غیر کی مہندی..
کبھی تم یہ بھی کہتے تھے
کہ میری سانس رکتی ہے,
تمہارے روٹھ جانے سے..
میرا دل کٹ کٹ جاتا ہے,
تمہارے دور جانے سے..
میری آنکھیں بھر آتی ہیں
جب تم خاموش ہوتے ہو,
جب تک بات نہیں ہوتی
میری رات نہیں کٹتی..
میں جب تک دیکھ نہ لوں تم کو,
مجھ کو چین نہیں آتا..
یہ تو جانا ہی اب ہے...!
کہ وہ بے چینی کس کی تھی۔
وہ پہلی محبت تھی
جو تم کو ستاتی تھی,
کسی کی یاد آتی تھی,
اُسے دل سے بھلانے کو
فقط خود کو بہلانے کو,
خلائے وقت بھرنے کو
میرا خون کرنے کو..
تم میرے ساتھ آئے تھے,
اپنے غم بھلانے کو
اور دکھڑے سنانے کو
اک رسمی سی عقیدت تھی..
اک جھوٹی سی محبت تھی..
مجبوری کی صورت تھی..
تمہیں میری ضرورت تھی..
ضرورت بدل گئی اب تو,
دل بہل گیا اب تو,
تم سنبھل گئے اب تو,
اور منزل مل گئی تم کو..
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






