وہ جب مجھے یاد آتے ہیں راتوں کو
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamوہ جب مجھے یاد آتے ہیں راتوں کو
ہم یادوں کہ دیپ جلاتے ہیں راتوں کو
میں کیسے بھلا دوں ان ملاقاتوں کو
جب وہ خواب میں آجاتے ہیں راتوں کو
یاد کر کےان کی پیاری پیاری باتوں کو
ہم آنکھوں سے اشک بہاتےہیں راتوں کو
جب سورج چھپ جاتاہےدنیاسوجاتی ہے
چاند ستاروں کوحال سناتےہیں راتوں کو
مجھےدن بھر لکھنےسےفرصت نہیں ملتی
لیکن ان کے خیال آ کر تڑپاتے ہیں راتوں کو
ہم تو بن بلائےانہیں ملنےچلے جاتے ہیں
وہ میرے سپنوں میں نہ آتےہیں راتوں کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








