وہ جب چاہے تمہیں رستے سے ہٹا سکتا ہے ۔۔۔

Poet: Dr. Humera Islam By: Dr. Humera Islam, Karachi.

وہ میری آنکھوں کے خوابوں کو چرا سکتا ہے
وہ تو جب چاہے جبھی آگ لگا سکتا ہے

میں نے جو خونِ جگر سے نقش ابھارے تھے کبھی
ایک جنبش سے سبھی نقش مٹا سکتا ہے

ایک لفظ کہنے کی مجھ کو تو اجازت بھی نہیں
وہ جتنے چاہے ، مجھ پہ الزام لگا سکتا ہے

میں کہ محروم ہوں اِک پھول کے لے لینے سے
وہ جب چاہے ، سارے گلشن کو جلا سکتا ہے

اُس کو آتا ہے ہنر ایسا کہ بس کیا کہیئے
پگھلے ہوئے موم کو پتھر بھی بنا سکتا ہے

اس قدر خوب ہے اس کی یہ سیاست کہ ہر دم
خود کو مظلوم سے مظلوم بتا سکتا ہے

ایسا معصوم شکل ابلیس صفت ہے لوگو
وہ جب چاہے تمہیں رستے سے ہٹا سکتا ہے

Rate it:
Views: 513
24 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL