وہ جس سفرِ محبت میں تھے ہم

Poet: آیٰشہ By: آیٰشہ, Rawalpindi

وہ جس سفرِ محبت میں تھے ہم ،وہ سفرکب کا تمام کرآۓ
سازوسامان کی بھی پرواہ نہ کی یہاں تک کہ دلِ ناداں قربان کر آۓ

رنگینیوں میں ڈوبی ہوئی دنیا اب بس سفید سیاہ کی مانند ہے
کہ جس آنے پر دیکھی تھی بہار اسے پچھلے اسٹیشن ہی چھوڑ آۓ

کیا لکھوں کیا کیا کہوں میں اس حسن شناس کی توصیف میں
وہ ستم گر جو سب بھلا چکا، ہمیں آج بھی اس کی مروت یاد آۓ

دل نشیں تو تھا بہت وہ، دل فریبی میں بھی کوئی مقابل نہیں
جسے ہم اپنا سمجھ کر جیتے رہے، وہ بھی اوروں کی محفل لوٹ آۓ

محبت تو خوش نصیبی ہے اور خوش بخت ہے وہ جسے مل جاۓ
ہم تو رقیبوں کی صف میں شمار ہوۓ, جب بھی تقسیم محبت کا وقت آۓ
 

Rate it:
Views: 584
19 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL