وہ جو تلوار اٹھاتا ہے تو ڈر جاتا ہے۔۔
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ جو تلوار اٹھاتا ہے تو ڈر جاتا ہے
میں جو بڑھتی ہوں ذرا آگے تو سر جاتا ہے
اس قدر زخم عداوت ہے مرے سر پہ ترا
تھوڑا جھکتی ہوں تو کچھ اور یہ بھر جاتا ہے
مرا سایہ ہے مری مثل ہواؤں جیسا
چاند نکلے تو کہیں لوٹ کے گھر جاتا ہے
کاش اب کے بھی ملاقات نہ ہونے پائے
تجھ سے جو آنکھ ملاتا ہے وہ مر جاتا ہے
چاند کی سمت جو اڑتی ہوں میں پنچھی بن کر
راستہ ساری فضاؤں کا سنور جاتا ہے
میری خواہش کے کبھی ہاتھ تو پیلے کر دو
جذبہ اک بار جو بنتا ہے بگڑ جاتا ہے
مجھ کو اک بار محبت سے پکارو وشمہ
تجھ سے جو پیار بڑھاتا ہے وہ تر جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






