وہ خدا تو نہیں
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiوہ خدا تو نہیں
ماورا ہے مگر وہ بھی ہر شرک سے
کوئی اُس جیسا ہے اور نہ ہو گا کبھی
اس زمیں پر نہیں
اس جہاں میں نہیں
آسمانوں پہ ہو
اس طرف دوسری کہکشاؤں میں ہو
ایسا ممکن ہے کیا
ایسا ممکن نہیں
کفر ہو گا جو ذرا برابر کوئی
اس کے ہم رنگ ہونے کا دعویٰ کرے
اور دعویٰ تو کیا
دھیان بھی ایسا گزرے تو ہو گناہ
اور جس کی سزا ، الاماں الاماں
اور میں کیا کہوں
کیا ہے تم کو خبر
کتنے آئینہ گر
لے کے اپنا سا منہ رہ گئے
بے وقر ، بے اثر، خاک ان کے ہنر
بن سکا کب کسی سے وہ اک آئینہ
ہو جسے ناز اپنی جلا پر کہ وہ
عکس کر پائے اس حسن ِ بے مثل کو
ہو بہو
خیر ! اس کا تو امکان تب ہے کہ جب
عکس مانا گیا ہو کبھی معتبر
کوئی اُس جیسا ہے اور نہ ہوگا کبھی
ماورا ہی رہے گا وہ ہر شکر سے
گو خدا وہ نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







