وہ درد دیکر شراب سے منع کرتا تھا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiوہ درد دیکر شراب سے منع کرتا تھا
میرا چاند مجھے خواب سے منع کرتا تھا
تیرے ملن لیئے کس کس سے ملن ہوئا
میرا ضمیر تو اِس بات سے منع کرتا تھا
سائل کے سوال اب بھی ویسے ہی ہیں
جس کے توُ ہر جواب سے منع کرتا تھا
جینے کو اور بھی جزائیں ہو تو دے بھیجو
کون ہے جو اک عذاب سے منع کرتا تھا
ہر زباں پر میرا نام اُس کے ساتھ آیا
مگر وہ سخی تو خطاب سے منع کرتا تھا
نینوں کی صراحی چھلکنے کے بعد سنتوشؔ
ہر اشک مجھے فساد سے منع کرتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






