وہ دو مسافر

Poet: Ghazala Tabassum By: Ghazala Tabassum, jhang

ان دیکھی انجانی راہوں پر گامزن
دو مسافر

منزلوں کاپتہ نہیں راہوں کی خبر نہیں
پھر بھی ہے راہوں پر گامزن وہ
دو مسافر

جا رہے ہیں بس چلے جا رہے ہیں
مست جستجو کی لگن میں وہ
دو مسافر

آجائے راہ میں کوئی خم اگر
مل جاتے ہیں ساتھ وہ
دو مسافر

ڈرتے ہیں بھی بے خبر راہوں سے
پھر بھی ہے گامزن راہوں پر وہ
دو مسافر

راہ میں آئے خار اگر
چنتے ہیں خار مل کر وہ
دو مسافر

چپ کا قفل لگائے ہیں راہ میں
لیکن قدم ساتھ اٹھائے راہ میں وہ
دو مسافر

پہنچے گے کب منزلوں پر
راہوں پر گامزن وہ
دو مسافر

کرتے ہیں برداشت کٹھن یہ سفر
گرتے نہیں راہوں میں وہ
دو مسافر
 

Rate it:
Views: 557
20 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL