وہ دیکھنے میں اگرچہ بہت بھی پیاری نہ تھی
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanلڑی وہ جنگ کہ جس کی کوئی تیاری نہ تھی
تھے حوصلے تو بلند ہم میں ہوشیاری نہ تھی
عدو کے پاس تھی طاقت بھی اور حکمت بھی
جدل کے وقت کچھ اپنی ضرب بھی کاری نہ تھی
سالار عیش میں ڈوبا تھا ہم بھی کیا کرتے
وہ جنگ ہار گئے جو کہ ہم نے ہاری نہ تھی
کیا ہے قتل تو کیسے وہ معاف ہو جائے
اسے دماغ کی لاحق کوئی بیماری نہ تھی
اسی کی جیت میں ہم دوستی نبھاتے رہے
جو جنگ ہم میں بظاہر کبھی بھی جاری نہ تھی
تمھیں نہ درد کی شدت کا کر سکے قائل
لگے تھے زخم مگر خوں کی سرخ دھاری نہ تھی
کوئی امید وفا تم سے اور کیا کرتے
تمھیں تو اپنے عہد کی بھی پاسداری نہ تھی
جواں ہوئے تو شجر سایہ تک نہیں دیتے
ہمارے خون جگر سے کیا آبیاری نہ تھی ؟
کسی کی یاد نے اک پل ہمیں نہ سونے دیا
تھی نیند غیر بہت رات بھر ہماری نہ تھی
مزاج آپ کا برہم تھا پیار کیا کرتے
اگاتے پھول بھی کس میں کوئی کیاری نہ تھی
ہم اپنے فن کو جہاں میں نمایاں کر نہ سکے
ہمیں تو فکر جہاں ہی سے رستگاری نہ تھی
کیوں بجھ گئے ہیں تمھاری نظر میں سارے چراغ
کبھی بھی تم پہ تو جاں ایسی یاس طاری نہ تھی
بڑی تاخیر سے پہنچے تھے آپ سے ملنے
بتائیں کیا کہ میسر کوئی سواری نہ تھی
یہ اس کی یاد ہے یا اور کشمکش کوئی
اے میرے دل کبھی ایسی تو بے قراری نہ تھی
کبھی بھی تم نے مرے عیب مجھ پہ نہ کھولے
یہ دشمنی تھی مرے دوست کوئی یاری نہ تھی
اے کاش مجھ پہ وفائیں تمام کر دیتے
وفا تمھاری مرے واسطے تو ساری نہ تھی
یونہی زباں سے ادا ہو گئی تھی بات گراں
قسم ہے دوست کہ نیت بری ہماری نہ تھی
حسین سوچوں سے اس کی ہمیں محبت تھی
وہ دیکھنے میں اگرچہ بہت بھی پیاری نہ تھی
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






