وہ ستمگر مری بانہوں میں سمٹنے آیا
Poet: AzharM By: Azhar, Dohaوہ ستمگر مری بانہوں میں سمٹنے آیا
مجھ کو تڑپا ہی گیا، ایسے لپٹنے آیا
میں نے تنہائی کی برسوں میں بچھائی تھی بساط
وہ اُسے ایک ہی لحظے میں اُلٹنے آیا
ابر تھا، رعد تھی، طوفاں تھا ، نہ کچھ تھی ہلچل
کیا ہوا تھا اسے، بے وجہ چمٹنے آیا
اُس کی قربت کا نشہ وہ تھا کہ بہکا میں بھی
وہ بھی مستی میں تھا سرشار، رپٹنے آیا
لذت وصل کی امید بندھائی پہلے
پھر بساط شب ہجراں کو پلٹنے آیا
وصل کی آگ کی لپٹوں سے جلا پھر اظہر
راکھ اُڑنے جو لگی، راکھ سے اٹنے آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






