وہ شخص اتنا پیارا تھا
Poet: Zafar Ali By: Zafar Ali Zafr, chiniotوہ شخص اتنا پیارا تھا کہ اسے ہم کیا کہتے
نہ اس کے بن گزارا تھا اسے ہم کیا کہتے
کب ممکن تھا ترک تعلق اس سے
ہماری زندگی کا وہ سہارا تھا اسے ہم کیا کہتے
در بدر کی ٹھوکریں کھا تے پھرتے ہیں
کبھی وہ بھی یار ہمارا تھا اسے ہم کیا کہتے
اسے یقین نہیں تھا ہماری محبت کا
ہمیں اسکا ہر ستم گوارا تھا اسے ہم کیا کہتے
وہ بھول گیا ہے سب رشتے ناتے
ہم پر تو اس کا اجارہ تھا اسے ہم کیا کہتے
جس کے دل میں خاطر ہمارے نفرت ہی رہی
وہ ہماری آنکھ کا تارا تھا اسے ہم کیا کہتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






