وہ صبح کے ہاتھوں کانور گہنا
Poet: Ruqayyah Maalik By: Ruqayyah Maalik, Lahoreوہ صبح کے ہاتھوں کانور گہنا
وہ شب کی آنکھوں میں سیاہ کاجل
ندی کے پانی میں عکس نرگس
فلک کے دامن میں چلتا بادل
وہ ابرنیساں کا پہلا قطرہ
دھنک کے رنگوں کی مسکراہٹ
افق کے گالوں کی وہ شفق ھے
وہ ہی تخیل کی قلبی راھت
وہ جس سے باد صباء میں ٹھنڈک
وہ جس سے شبنم میں تازگی سی
جس کی آنکھوں کے رنگ بحر میں
اسی سے لہروں میں زندگی سی
چمن کے پہلو میں گل فشانی
گلوں سے عنبرورنگ فشانی
کسی شجر کی گداز کونپل
وہ تتلیوں کی حسین رانی
سب حسن آفاق اس کے دم سے
جو وہ نہیں تو ختم کہانی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






