وہ عادتآ یہ مسلسل عذاب دیتا ہے
Poet: shahid Ullah khan By: shahid ullah khan, Bannuوہ عادتآ یہ مسلسل عذاب دیتا ہے
کہ ہر سوال کا مبہم جواب دیتا ہے
وہ محبت کا یقیں اس طرح دلاتا ہے
کہ مرے ہاتھ میں اکثر گلاب دیتا ہے
میں کچھ بھی مانگ لوں دل سے تو مرا رب کریم
وہ مجھ کو دیتا ہے اور بے حساب دیتا ہے
نجانے چاند سے کیوں انس ہورہا ہے مجھے
وگرنہ روشنی تو آفتاب دیتا ہے
وہ سوکھے پھول خود اپنے ہی پاس رکھتا ہے
جب بھی واپس مجھے اپنی کتاب دیتا ہے
یہ مرحلہ بھی محبت میں آگیا شاہد
کہ مجھے اس کی خبر میرا خواب دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






