وہ عجیب سی پاگل لڑکی
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer , karachiوہ عجیب سی پاگل لڑکی
دیوانوں کی طرح مجھ پر مرتی ہے
کبھی مجھے چاند تو کبھی جان کہتی ہے
تمہارے بغیر کیسے جیوں گی میں
مجھ ہی سے اکثر پوچھا کرتی ہے
وہ عجیب سی پاگل لڑکی
میرا نام اپنے ہاتھ پر لکھ کر
ہاتھ کو چوما کرتی ہے
ہاتھ کو چوم کر چوم کر
خود ہی شرما جاتی ہے
وہ عجیب سی پاگل لڑکی
پتا توہے اسے کہ میں اس کا ہو نہیں سکتا
یہ رشتہ کسی طور بھی اب بن نہیں سکتا
پیار کا بندھن بھی تو اب نہیں بن سکتا
میں بھی کسی کو دھوکہ دے نہیں سکتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






