وہ فریب و مکر تھا

Poet: Naeem Ahmed Malik By: Naeem Ahmed Malik, Sambrial

مجھے جس نے اپنا بنا تھا وہ قرار خود نہ نبھا سکا
بہ حدیقہ ہائے موانست نہ وفا کی پینگ بڑھا سکا

ہوئےں بے جا رنجشیں کیوں اسے کیا صید تیر جفا مجھے
بڑی دل نے پائےں اذیتیں نہ جفا سے اس کی بچا سکا

بڑی تند خوئی سے شوخ نے مجھے سوز و درد و الم دیا
نہ ہی کسی کے کام میں آ سکا نہ ہی اپنی بگڑی بنا سکا

وہ کما ن ابرو کھنچی کھنچی بہ مفارقت وہ گھٹن گھڑی
نہ میں کوئی عذر ہی کر سکا نہ ہی عرض اپنی سنا سکا

وہ فریب و مکر تھا بے گماں جو محبت اس سے ہوئی عیاں
بکمال خوئے وفا گری نہ میں اس کے دل میں سما سکا

اسے خواہ کوئی وفا کہے ےا صلاح ترک کہے مجھے
کہ میں ا س غر ور شعار کو نہ جدائی میں بھی بھلا سکا

جو دیا حسین اُمید کا تھا جلایا دل کی منڈیر پر
بڑی تےز آندھی سے بجھ گےا جسے پھر کبھی نہ جلا سکا

ہوئی ایسی تیرگی بخت کو کسی زُلف برہم مزاج سے
نہ ہی عزم کا ہوا تکما نہ ہی صحیح راستہ پا سکا

ہوئےں تشنہ کامی کی تلخیاں ہوا راز مخفی مرا عیاں
سر بزم کیوں ہی نہ شرم ہو کہ نہ حال اپنا چھپا سکاییااابببببب

Rate it:
Views: 645
30 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL