وہ مجھے آزماتا رھا
Poet: Aik banda By: aik banda, londonوہ مجھے آزماتا رھا
میں اسے شرماتا رھا
پھر یوں ھی ماہ و سال گزرتے رھے
بظاہر ھم اجنبی رھے
حقیقت میں ھم اک دوسرے میں رھے
عجیب رشتہ اسطوار ھوا
نہ اس سے اقرار ھوا
نہ مجھ سے انکار ھوا
یہ آج تک مجھ پر نہ آشکار ھوا
کہ بے سبب ھی میں نے اسے پیار کیا
یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مجھے سوچتا نہ ھو
کیوں کہ جسم پر اختیار ھے
پر روح پر اختیار نہیں
بس فقط میرا اک کام کر دینا
جب کبھی میری یاد ستائے
توصرف مسکرادینا
کہ مسکراہٹ دکھوں کو چھپالیتی ھے
تمہیں اپنا خیال رکھناھے میرے لیے
کہ تمھاری زندگی ہی تو میری زنندگی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






