وہ مرنا چاہتی تھی
Poet: انور جمال انور By: انور جمال انور , karachiانا کے خول کے اندر وہ مرنا چاہتی تھی
اسے کیوں روکتا انور وہ مرنا چاہتی تھی
مجھے تم سے محبت ہے ، محبت ہے ، وہ کہتی
یہی اک بات کہہ کہہ کر وہ مرنا چاہتی تھی
وہ کمسن عشق کے آداب سے واقف کہاں تھی
ذرا سی ایک رنجش پر وہ مرنا چاہتی تھی
اسے رسوائیوں بدنامیوں کا ڈر نہیں تھا
چلی آتی تھی ننگے سر وہ مرنا چاہتی تھی
وہ تھی اک کانچ کی گڑیا اور اک دن راہ چلتے
کہیں سے آ لگا پتھر ، وہ مرنا چاہتی تھی
درون ِ جسم تھی اک آگ کے مانند ، اس پر
اسے قابو نہ تھا خود پر وہ مرنا چاہتی تھی
میں حد سے بڑھ کے تھا خود سر میں جینا چاہتا تھا
وہ حد سے بڑھ کے تھی مضطر وہ مرنا چاہتی تھی
میں اس کی خودکشی پر سوچتا رہتا ہوں اکثر
کہے گی کیا سر ِ محشر ، وہ مرنا چاہتی تھی ؟
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






