وہ منتظر مری آہٹ کا انتظار کرے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجو حال آج ادھر ہے وہ بیقرار کرے
وہ منتظر مری آہٹ کا انتظار کرے
وہ سنگدل ہی سہی پر نہ اس قدر ہو گا
محبتوں کا کبھی اس پہ بھی وہ وار کرے
اسے بھی ہو گی تمنا مری رفاقت کی
عزیز اس کو مرا شہر ، اشکبار کرے
وہ چاند مجھ سے تعلق تو خاص رکھتا ہے
میں رات ہوں مرے آنگن میں ہی حصار کرے
ملے گا شام و سحر بے قرار ہو کے مجھے
نہ اس کے بس میں زباں ہو گی نہ ہی پیار کرے
رکی ہوئی ہوں تو اس کے قدم بھی ساکت ہیں
جو چل دیا تو سدا میرا شرمسار کرے
اداس لمحوں میں وشمہ وہ جب ملا مجھ سے
نظر اٹھا کے کہا کچھ نہ جاں نثار کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






