وہ میرا تھا بے ایمان ہونے تک
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky), K.S.Aزیست کا سفر آسان ہونے تک
وہ میرا تھا بے ایمان ہونے تک
محبت سے کس نے کہا صفائی دو
وہ میرا تھا بدگمان ہونے تک
کب بنائی نئی سلطنت ُاس نے
وہ میرا تھا سلطان ہونے تک
اب وہ کسی راہ بھی نظر نہیں آتا
وہ میرا تھا مہمان ہونے تک
کانٹوں سے کس نے کہا وفا کرو
وہ میرا تھا بےنشان ہونے تک
وفا کا وعدہ تھا پھر وہ کیسے بھول گیا
وہ میرا تھا بیمان ہونے تک
یہ قافلہ کہاں جا رہا ہے پوچھوں تو
وہ میرا تھا سامان ہونے تک
چاندنی رات میں وہ بہت یاد آیا
وہ میرا تھا گمان ہونے تک
حیاء کا درس دیتے وہ بےحیاء ہو گیا
وہ میرا تھا عثمان ، شان ہونے تک
خدا کی رضا کس میں چھپی ہے
وہ میرا تھا پریشان ہونے تک
کس قدر تلخ مگر اچھا تھا لکی
وہ میرا تھا زعفران ہونے تک
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






