وہ میرا کیوں نہ تھا
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreمیرے اور اُس کے درمیان ایک فاصلہ سدا سے تھا
یہ فاصلہ نہ ختم ھوا یہ معاملہ تو انا کا تھا
ہم اُس کی ذات میں تھے ڈوبے
اور وہ اپنی ذات کی کھوج میں تھا
وہ نہیں تھا میری منزل، ابتدا سے جانتی تھی
زندگی مان کر اُسے مجھے منزلوں کا پتہ نہ تھا
وہ ساتھ ھے تو ھےہر خوشی، وہ دُور ھو تو تشنگی
اُس کا ساتھ ہی تھا زندگی مگر وہ تو باخبر نہ تھا
ھوئ جب بھی محو گفتگو، اُسے پایا اپنے پاس ہی
بار ہا یہ سوال اُٹھا آخر وہ میرا کیوں نہ تھا؟؟؟؟؟
اُسے پیار تھا مجھ سے یا دل کو اک گماں سا تھا
ہم لُٹ چکے تھے اُس پہ جسے جادوگری میں کمال تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






