وہ میری داستاں مجھکو سنا کے روئے تو کیا
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississauga, Canadaوہ میری داستاں مجھکو سنا کے روئے تو کیا
خود اپنے ساتھ مجھے بھی رُلا کے روئے تو کیا
نہ اب ِکھلے گا کوئی پھول دشتِ امکاں میں
وہ میرے حال پہ یوں منہ چھپا کے روئے تو کیا
اگر نہیں تھا کوئی راستہ پلٹنے کا
خود اپنے ہاتھ سے کشتی جلا کے روئے تو کیا
اب اتنی بار تو مرنے کا حوصلہ بھی نہیں
وہ بار بار مجھے آزما کے روئے تو کیا
سنو یہ درد کا رشتہ تم ہی نے جوڑا تھا
پھر اسکے بعد گلے سے لگا کے روئے تو کیا
بھر ی بہاَر میں اب سینہ پیٹتی ہے ہوا
وہ شہرِ دل میں تباہی مچا کے روئے تو کیا
نہ ہو گی ختم کبھی کج رَوی زمانے کی
جو دوست ہم کو تماشہ بنا کے روئے تو کیا
یہ ڈھو نگ کیسا ہے کچھ تو دلِ ہز یں سے کہو
ذرا سی بات پہ اُدھم مچاَ کے روئے تو کیا
سبھی کو دُکھ ہے ، ہمیں بھی ملال ہے انور
زمانہ آپ کو ا تنا رُلا کے روئے تو کیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






