وہ میری قربت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

Poet: sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, lahore

وہ میری قربت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟
کہ اتنی غُربت چاہتا تو کیسے چاہتا؟

وہ جُڑا دنیائے حسن سے' لاجواب ہے
مجھ جیسی قسمت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

کیونکر لکھ لیتا وہ مجھ بدنام کو درِداستاں
ماضی پہ ندامت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

مختصر سی محبت ہے سفر طول زندگی کا
زندگی سے شکایت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

اُس کے زخموں سے تو درخشاں میرا بدن
میرے لیے جنت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

دل ریش بھی تو کم نہیں ،میری اُمیدیں
اور ایسی قیامت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

گرفتار میری دُنیا میں آ کے ہو جاتا مانو
ظلم کی عنایت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

اور محبت تو آخر محبت تھی انمول
کسی بھی صورت چاہتا تو کیسے چاہتا ؟

Rate it:
Views: 561
06 Aug, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL