وہ میرے معصوم دل کی صدا تھی
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamوہ میرے معصوم دیل کی صدا تھی
خدا سے مانگی ہوئی کوئی دعا تھی
اپنی زندگی سےبڑھ کر چاہ اسے
یہ میرے پیار کی انتہا تھی
کیا کہوں اس کی شیرنیئ گفتارکا
کانوں میں رس گولتی اس کی صداتھی
سلام بیجھتی تھی مجھےہواکی زبانی
یوں لگتا تھا جیسےبادصبا تھی
میں ہی اس کا ساتھ نہ نبھا سکا
ورنہ وہ اک مورت وفا تھی
آخری بار جب الوداع کہا اس نے
ہونٹوں پہ مسکان دل سےخفاتھی
نہ جانے کیسے اسےبھول پاؤں گا
جس کی ہر ادا اوروں سےجدا تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






