وہ میزباں ہو میرے دِل کا یہ ارمان رہا
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ میزباں ہو میرے دِل کا یہ ارمان رہا
جو میرے دِل کا مکیں ہے وہی مہمان رہا
میرے غمخوار میرے درد آشنا سن لے
میرے جیون میں خوشی کا تو ہی سامان رہا
میں تیری زندگی کا ایسا راز ہوں کہ جِسے
تو جانتے ہوئے بھی جانے کیوں انجان رہا
کبھی جنوں تو کبھی اہلِ خِرد کے ہاتھوں
کوئی نہ کوئی میرے سامنے طوفان رہا
کئی منظر دِکھائے ہیں جہان والوں نے
میری نظر میں مگر ایک ہی جہان رہا
میں جاندار ہوں کہتا رہا یہ سب سے مگر
کِسی نے کچھ نہ سنا اور میں بےجان رہا
ستم شعار نے ستم کیا، تو کیا غم ہے
ستم کے بعد، سنا ہے، وہ پشیمان رہا
میرے عدو میری حالت پہ پریشان رہے
یہ جان کر میں بڑی دیر تک حیران رہا
جِس کی پاکیزہ نگاہی کی گواہ دنیا ہے
میری نظر میں آج تک وہ نوجوان رہا
برق رفتار وقت کی پکار ہے کہ یہاں
کوئی دارا، نہ سکندر، نہ ہی خاقان رہا
جِسے دنیا حقیقت جانتی رہی عظمٰی
خیالِ خام وہ محض غلط گمان رہا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






