وہ میٹھی نیند میں سویا حسین اک گلاب لگتا ہے
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratوہ میٹھی نیند میں سویا حسین اک گلاب لگتا ہے
میرے خوابو ں کی جنت کا کو ئی کردار لگتا ہے
وہ تکلم جب بھی کرتا ہے نیند سے اُٹھ کر
تو اس ارادے میں بہت بے قرار لگتا ہے
وہ جب بھی نیند سے جاگے تو یوں نشِمن میں
کسی دُلہن کے جیسے نیا سا خمار لگتا ہے
کاش کہ برس جائے کسی روز پھول کی مانند مجھ پر
کہ وہ ہی بس خشبوؤں کا گلزار لگتا ہے
وہ مجھ سے دور رہ کر بھی کبھی دُور نہیں لگتا
یوں کہ میری آنکھوں میں سمٹا حسین اک خواب لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






