وہ نوحہ بن کے رلا رہے ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ نوحہ بن کے رلا رہے ہو
تبھی تو لب پہ دعا رہے ہو
وہ مجھ کو دیتا ہے دے رہا ہے
جو ایک پل بھی جدا رہے ہو
عزاب جاں کا صلہ نہ مانگو
ابھی تمہیں جو دکھا رہے ہو
اداس چہرے سوال آنکھیں
یہ میرا شہرِ وفا رہے ہو
یہ بستیاں جس نے راکھ کر دیں
چراغ ہے وہ جلا رہے ہو
کوئی تو لحمہ سکون دے دے
یہ زندگی ہے سزا رہے ہو
گمان وشمہ یہ کہہ رہی ہے
کہ اس کو شاہد چھپا رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






