وہ نکل جائے مرے دل سے تو باقی کیا ہے
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaوہ نکل جائے مرے دل سے تو باقی کیا ہے
اور بنا مے کے یہ ساغر ترا ساقی کیا ہے
خلوتوں میں بھی ہے جب ساتھ میسر اُس کا
خود پہ طاری جو یہ رکھی ہے فراقی کیا ہے
ایک اُمت کا وہ دیتے ہیں بھلا درس مجھے
پوچھتے پھر ہیں کہ یمنی ہو عراقی؟ کیا ہے؟
باندھ رکھتا ہے تو اخلاق ضوابط سے ہمیں
بد خصالوں کو یہ دستور وفاقی کیا ہے
وحشیو تُم سا ہی اظہر جو کبھی بن جائے
پھر خردمند ہے کیا اور مراقی کیا ہے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






