وہ پچھلے سال کی پہلی صبح

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

 وہ پچھلے سال کی پہلی صبح
جب تمہیں میرا انتظار تھا
اک لمہ بھی میرے بناء
گزارنا تمہارے لیے محال تھا
تب تو تمہارے دل میں
صرف میرا ہی خیال تھا
ُاس دن تمہاری آنکھوں میں
پیار ہی پیار تھا جس دن میرا
تمہارے پاس رکنا بہت دشوار تھا
میرے پروں میں بندی تھی
رشتوں کی زنجیریں لکی
ُخدا ہی جانے کہ ُاس دن
میرا کون سا امتحان تھا
جب دیکھا تیری طرف تو
میں سب کچھ بول گئی
شاید ! مجھے بھی تیری
ُاسی نظر کا انتظار تھا
میں خاموش رہی تجھے سنتی رہی
ُاس دن تیری آواز میں
بھی کتنا مٹھاس تھا
شاید ! میرے تصیب میں
پچہلے سال کا ایک ہی دن
تیرے ساتھ کا تھا

Rate it:
Views: 904
01 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL