وہ کبھی تو پکارے گا مجهے
Poet: AF(Lucky) By: AF (Lucky), K.S.Aبستر پر تبهی لیٹتی ہوں
جب تهکن سے چور ہوتی ہوں
ناچاہتے ہوئے بهی اکثر
دل کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہوں
وہ کیوں یاد آتا ہے ہر شام ڈهلے
دل کے پاس مگر حقیقت میں دور ہوتی ہوں
کاعذ ، قلم اور کچه ادهورے لفظ
جن کے ساته اشک بار ہوتی ہوں
چاند میں اس کا عکس نظر آتا ہے
پھر چاند کی روشنی میں گرفتار ہوتی ہوں
وہ کبھی تو پکارے گا مجهے
میں اس ندی کے پار ہوتی ہوں
وہ کبھی تو دیکهے گا آنکھ بهر کر مجهے
اک نگاہ کی خاطر تو میں تیار ہوتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






