وہ کیسا شخص ہے کیسی محبت کرتا ہے
Poet: MARIA RIAZ GHOURI By: MARIA GHOURI, HarooNAbadوہ کیسا شخص ہے کیسی محبت کرتا ہے
چذبوں کی جذبوں سے بس تجارت کرتا ہے
اڑتی پھرتی ہواؤں سے عہد وفا کر کے
وفا کے اصولوں کی شکست کرتا ہے
دل کے آئینے میں سما تو جاتا ہے
دل توڑنے کی نا مہلت کرتا ہے
بے حد رلاتا ہے میری احساس محبت کو
جب میں لڑتی ہوں لڑائی سے نفرت کرتا ہے
منسوب تو تھا ہی مجھ سے خدا کے لکھے پر
لیکن شاعری کا بہانہ کرکے چاہت کرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






